سید ضمیر حسین شاہ ضمیرؔ جعفری یکم جنوری 1916ء کو منگلا کے قریب ضلع جہلم کے چھوٹے سے گاؤں چک عبدالخالق میں سید حیدر شاہ کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ ان کے پرنانا سلطان العارفین حضرت پیر سید محمد شاہ پوٹھوہار اور آزاد کشمیر کے مقبول صوفی اور پنجابی کے یگانہ روزگار شاعر تھے،جو عارف کھڑی حضرت میاں محمد بخش قادریؒ کے ہم عصر تھے ۔ ’’ پیر دی ہیر‘‘ ان کی معروف تصنیف ہے۔ گورنمنٹ کالج کیمبل پور سے میٹرک اور انٹر کے امتحانات پاس کرنے کے بعد آپ نے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ 1938ء میں بی ۔ اے کی سند حاصل کی۔ شعر و سخن کی کونپلیں ساتویں جماعت ہی سے پھوٹنے لگی تھیں، پنجاب یونیورسٹی کے طلباء کے ایک شہری مقابلے میں اپنی ایک نظم پر جسٹس سر شیخ عبدالقادر کے ہاتھوں پہلا ادبی اعزاز طلائی تمغہ حاصل کیا۔ جہلم کے علاؤہ لاہور اور اٹک سے تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے35روپے ماہانہ پر روزنامہ’’ احسان،، کے نائب مدیر کی حیثیت سے ملازمت شروع کی۔ اس دوران اردو کے معروف ادیب چراغ حسن حسرتؔ کے مقبول رسالے ’’شیرازہ،، کی ادارت میں معاونت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ پھر کچھ عرصہ جہلم اوردہلی میں چھوٹی موٹی ملازمت کے بعد برطانوی ہند فوج میں شامل ہوگئے اور تین برس جنوب مشرقی ایشیاء کے محاذ پر فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ میں خدمات انجام دیں۔ فوج میں انہیں لاہور کے عہد ساز مجلے ’’کارواں،، کے مدیر کرنل مجید ملک ،کرنل فیض احمد فیض،کیپٹن ن م راشد اور کمانڈر عسکری ( این سعید) جیسے شعراء اور ادیبوں کی رفاقت میں کام کرنے کا موقع ملا۔ دوسری عالمی جنگ کے شعلے سرد ہوجانے پر 1948ء میں کیپٹن سید ضمیر جعفری آزاد وطن پاکستان آگئے اور انہیں کشمیر کی جنگ آزادی کے محاذ اوڑی کے مورچوں میں تعینات کردیاگیا۔ 1949ء میں فوجی ملازمت ترک کرکے دوبارہ صحافت کی وادی میں قدم دھرا کہ صحافت کہ ساتھ ان کا ازلی اور گہرا رشتہ تھا۔ روزنامہ’’ غالب ،، کے مدیر مقرر ہوئے۔ ’’غالب ،،کی مجلس ادارت میں مولانا نصر اللہ خان عزیز، شوکت تھانوی اور افضل صدیقی (بعد میں کراچی کے روزنامہ’’ امن ،،کے بانی مدیر) بھی شریک تھے۔ ’’غالب‘‘ کچھ ہی عرصہ بعد حالات سے مغلوب ہوگیا۔1950ء میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ پھر اپنے دو عسکری دوستوں کرنل مسعود اور کیپٹن مسعود اللہ کے اشتراک سے آپ نے راولپنڈی کا پہلا روزنامہ’’ بادشمال،، جاری کیاجو ایک نئی روایت کا بانی تھا مگر مالی مشکلات نے ’’باد شمال‘‘ کو بھی ’’باد مخالف‘‘ کے حوالے کردیا۔سید ضمیر جعفری دل برداشتہ ہوکر اپنے گاؤں واپس چلے گئے اور 1975ء میں اپنے علاقے کی سیاسی نشست سے بطور آزاد امیدوار صوبائی اسمبلی کیلئے الیکشن لڑا اور ضمیر ہار گئے۔ اخبار کی بندش،انتخاب میں ناکامی ان کے معاشی حالات کیلئے ایک بحران ثابت ہوئے اور انہیں ایک مرتبہ پھر فوجی بیرکوں میں واپس جانا پڑا۔ فوجی ملازمت کے اس دوسرے دور میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول اور جنرل ہیڈکوارٹر میں شعبہ تعلقات عامہ سے وابستہ رہے ۔ پہلے ایوب خان مارشل لا کے دوران میجر ضیا الحق(بعد میں مارشل لا ایڈمنسٹریٹراور صدر پاکستان )کے ساتھ ایک بر یگیڈ میں کچھ عرصہ کام کرتے رہے۔1959ء میں لاہور مارشل لا ہیڈ کوارٹر میں جنرل بختیار رانا کے پریس آفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیے ۔وہیں سے ڈیپوٹیشن پر محکمہ دیہات سدھار کے ایڈیشنل ڈائر کٹر جنرل ہو کے کراچی وارد ہوئے ۔اس محکمے میں ممتاز مفتی، ابن انشاء ،احمد بشیر جیسے اہل قلم ان کے رفقائے کار تھے ۔ آپ کی پہلی شادی اپنی عم زاد سے لڑکپن میں ہوئی تھی مگریہ شادی دو چار ماہ بعد ہی ناکام ہو گئی۔ آپ نے دوسری شادی گجرات کے ایک معز ّز سید گھرانے اور اردو کے جید نا قد ،ممتاز شاعر، سید عابد علی عابد کے عزیزوں میں ہوئی۔ مگر یہ رفاقت بھی مختصر ثابت ہوئی۔ 1945 ء میں تیسری شادی ہوئی جس سے دو بیٹے سید احتشام ضمیر جعفری(لیفٹیننٹ جنرل) اور سید امتنان ضمیر جعفری ہیں۔ امتنان ضمیر 50کتب کے مصنف اور سابق کرکٹر ہیں۔سید احتشام کے بیٹے کا نام سید علی احتشام ہے۔ ستمبر 1965ء کی جنگ میں سیالکوٹ کے محاذ پر خدمت انجام دی۔ 1966ء میں فوج سے سبک دوشی کے بعد سول ملازمت کا سلسلہ قسط وار کئی برس تک جا ری رہا ۔کوئی ۱۴ برس اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے کے پہلے ڈائر کٹر تعلقات عامہ رہے ۔چند برس وفاقی وزارت اطلاعات کے نیشنل سینٹر میں ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔ کچھ عرصہ ایک دوسری وزارت میں افغان مہاجرین کے مشیر، پھر اکادمی ادبیات پاکستان کے جریدے’’ ادبیات،، کے مدیر اعلیٰ بھی رہے ۔1988 میں یہی ان کی آخری سرکاری ملازمت تھی۔وہ اردو کے فکاہی رسالے’’ اردو پنچ،، کی مجلس ادارت کے صدر نشیں اور ادبی رسالے چہار سو کے مدیر اعلی ٰ بھی رہے ۔ 1976ء میں ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغہ قائداعظم ،1985 ء میں صدارتی تمغہ حسن کاکردگی ملا ۔ شاہ صاحب کے کئی ملی ترانے ریڈیو اور ٹیلی وژن کا اثاثہ ہیں ۔کچھ عرصہ قبل پا کستان ٹیلی وژن نے طویل دورانیے کا ایک مقبول اسٹیج شو’’آپ کا ضمیر،، ان کے نام سے منسوب کیا تھا ۔ان کے گائوں کی سڑک ان کے نام سے موسوم ہے۔ قلم ان کے وجود کا جزوہے ۔پہلا شعری مجموعہ’’ کا رزار،، ۱۹۴۰ء میں شائع ہوا تھا۔ کل تصانیف کی تعداد۴۰ کے لگ بھگ ہے۔ مزاح نگار کی حیثیت سے مشہور ہوئے، لیکن سبھی اصناف میں خوب طبع آزمائی کی ، شعر و سخن اور مزاحیہ نثر پاروں کے علاوہ اخباری کالم نگاری میں بھی ضمیر جعفری کا اسلوب جداگانہ تھا، ان کے کالم کثیر اشاعت روزنامے ،جنگ ،غالب ،بادشمال ،خبریں، الاخبار ، ہفت روزہ اخبار جہاں، ماہانہ اردو ڈائجسٹ،سیارہ ڈائجسٹ میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان کی مشہور کتابیں اُڑتے خاکے، ضمیریات، جہلم کے معروف پبلشنگ ادارے ’’ بک کارنر‘‘ کے زیر اہتمام دیدہ زیب طباعت سے شائع کی گئیں۔ شاہد حمید راوی کہتے ہیں کہ ایک روز ضمیر جعفری ، جنرل ضیاء الحق کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے آپ سے اشعار سننے کی فرمائش کی۔ آپ نے اشعار سنائے تو خوب داد ملی۔ حفیظ جالندھری بھی وہیں موجود تھے کہنے لگے:’’ ضمیر جب ہمارے ساتھ ہوتے تھے تو اتنے عمدہ شعر نہیں کہتے تھے۔‘‘ ضمیر جعفری کہاں چوکنے والے تھے فوراً بولے: ’’ قبلہ یہ سب آپ کی دوری کا فیض ہے ‘‘ اور محفل کشتِ زعفران بن گئی۔ ان کی دیگر کتب میں’ آگ اکتارا،ضمیر حاضر ضمیر غائب ،کتبے ،مافی الضمیراور نشاط تماشا،ولایتی زعفران، گورخند، مسدس بد حالی ہیں۔آپ کا انتقال 16مئی 1999ء کو ہوا۔آخری آرام گاہ کھنیارہ شریف میں اپنے نانا کے پہلو میں واقع ہے